9 جولائی 2014 - 23:09
تکفیری گروہ کا اسلام، انسانیت اور اخلاقی اقدار سے کوئی تعلق نہیں

انہوں نے مزید کہا: خدا اسلامی ممالک کے لیڈروں کو عقل کے ناخن دے تا کہ اپنی امت کی فکر کر سکیں اور اتحاد و اتفاق سے دین محمدی(ص) کے ماننے والوں کی مشکلات حل کر سکیں اور اس مقام پر پہنچ سکیں جو اسلام اور خدا نے چاہا ہے: «ان العزة لله و لرسوله و للمومنین»

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنرل نے منگل کی شب اسمبلی کی طرف سے افطاری پر مدعو اسلامی ممالک کے سفراء سے خطاب کرتے ہوئے ماہ رمضان کی مبارک باد پیش کی اور کہا: ماہ رمضان، مودت، عبادت، بارگاہ خداوندی میں تقرب کے حصول اور امت مسلمہ کے درمیان ہمدردی اور ہمدلی پیدا کرنے کا مہینہ ہے۔
آیت اللہ اختری نے مزید کہا: امت مسلمہ ایک طرف سے تکفیری گروہ داعش کے ہاتھوں اور دوسری جانب سے جرائم پیشہ صہیونی ریاست کے ہاتھوں شدید مشکلات سے دوچار ہے۔
انہوں نے تاکید کی: مغربی سیاستدان مخصوصا امریکہ  شام، لبنان، عراق، بحرین اور دیگر اسلامی ممالک میں مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور تفرقہ پیدا کرکے مسلمانوں کو ایک دوسرے کے دست و گریباں کر رہا ہے تاکہ صہیونی حکومت آرام سے اپنے جرائم انجام دیتی رہے۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے سکریٹری جنزل نے کہا: ایک طرف سے ہم مشرق وسطی میں امن و صلح کے حوالےسے مذاکرات کی باتیں سن رہے ہیں اور دوسری طرف سے صہیونی حکومت مظلوم فلسطینیوں پر بم برسا کر انہیں خاک و خون میں یکساں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا: شام اور عراق میں جارحیت علاقے کے بعض اسلامی ممالک کی حمایت سے ہو رہی ہے جبکہ ہمیں آج ہر دور سے زیادہ اتحاد و اتفاق کی ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا: خدا اسلامی ممالک کے لیڈروں کو عقل کے ناخن دے تا کہ اپنی امت کی فکر کر سکیں اور اتحاد و اتفاق سے دین محمدی(ص) کے ماننے والوں کی مشکلات حل کر سکیں اور اس مقام پر پہنچ سکیں جو اسلام اور خدا نے چاہا ہے: «ان العزة لله و لرسوله و للمومنین»
آیت اللہ اختری نے عراق اور شام کے سلسلے میں رہبر معظم کی باتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ ان مشکلات کی وجہ سے سخت نالاں ہے انتہا پسند ٹولے انسانی اقدار اور اخلاقی خصلتوں کو پامال کر چکے ہیں اور شیعہ سنی سب کو ایک ہی چکی میں پیس رہے ہیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی اپنی شرعی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے اسلامی واقعات کا دفاع کرتی اور عالم اسلام کو ایک دوسرے کے قریب آنے، ایک دوسرے کو سمجھنے اور آپس میں مل بیٹھنے کی دعوت دیتی ہے اور ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے بیچ سے تفرقے کو دور کرنے کے لیے اسلامی ممالک کے سربراہوں اور دینی اور سیاسی اداروں سے گفتگو اور تعاون کے لیے دست دراز کرتی ہے۔

...................

242